مِّنَ النَّاسِ ؕ وَکَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الْعَذَابُ ؕ وَمَنۡ یُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکْرِمٍ ؕ اِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿ؕٛ۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے اللّٰہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللّٰہ جو چاہے کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اورجو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اورستارے اور تمام پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی یہ سب اللّٰہ کو سجدہ کرتے ہیںاور بہت سے لوگ وہ (بھی)ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے اللّٰہ ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللّٰہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
{اَلَمْ تَرَ:کیا تم نے نہیں دیکھا ۔} ارشاد فرمایا ’’اے حبیب ِاکرم! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج ، چاند ،ستارے ،تمام پہاڑ ، درخت اور چوپائے یہ سب جیسا اللّٰہ تعالیٰ چاہتا ہے ویسا اسے سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے آدمی یعنی مسلمان طاعت و عبادت کا سجدہ بھی کرتے ہیںاور بہت سے وہ لوگ ہیں جن پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب مقرر ہوچکا ہے لیکن ان کے بھی سائے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اور جسے اللّٰہ تعالیٰ اس کی شقاوت کے سبب ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللّٰہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔(1)
نوٹ: یہ آیت ِ سجدہ ہے، اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔
عزت ونامْوَری کسی کی میراث نہیں :
اس سے معلوم ہو اکہ کسی قوم یاکسی فرد کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ عزت ونامْوَری کواپنی میراث سمجھ لے اوراسی فریب
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۷۳۴، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۳۰۲-۳۰۳، ملتقطاً۔