آیت’’اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)…آج اگرچہ ہرشخص اپنے آپ کوحق اور ہدایت کاپیروکار کہتا ہے مگراس کاعملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا جب اہلِ حق کوعزت واحترام کے ساتھ جنت میں بھیجا جائے گا اور اہلِ باطل کوذلت وخواری کے ساتھ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ لیکن یہاں یاد رہے کہ دین ِاسلام ہی حق ہے اور اسے ماننے والا حق پر ہے اور تمام انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین، اسلام ہی تھا لیکن اب دین ِاسلام سے وہ دین مراد ہے جو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لے کر آئے ہیں، لہٰذا اب آپ کے دین کے علاوہ اور کوئی دین اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معتبر نہیں، چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلَامُ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَمَنۡ یَّبْتَغِ غَیۡرَ الۡاِسْلٰمِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقْبَلَ مِنْہُۚ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردینچاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
(2)…اس آیت میں ہر ایک کے لئے بہت وعید ہے ، لہٰذا ہر عقل مند انسان کو چاہئے کہ وہ فیصلے اور قضا کے دن کو یاد رکھے اور وہ اعمال کرنے کی بھر پور کوشش کرے جن سے اللّٰہ تعالیٰ کی رضاحاصل ہوتی ہے تاکہ قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اور اپنے فضل و رحمت سے ا س کے حق میں اچھا فیصلہ فرمائے اور اسے جہنم کے دردناک عذاب سے بچا کر جنت کی ہمیشہ رہنے والی عالی شان نعمتیں عطا فرمائے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیۡرٌ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…اٰل عمران:۱۹۔
2…اٰل عمران:۸۵۔