ہوئے تو قاری صاحب خاموش ہو گئے ۔ آپ نے سلام کیا اور ارشاد فرمایا ’’تم کیا کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ ہمیں قرآن سنا رہے ہیں اور ہم غور سے اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب کو سن رہے ہیں ۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تمام تعریفیں اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ
بھی شامل فرمائے جن کے ساتھ ٹھہرے رہنے کا مجھے بھی حکم دیاگیا ہے۔(1) اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن مجید کے احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِــِٕیۡنَ وَ النَّصٰرٰی وَ الْمَجُوۡسَ وَالَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللہَ یَفْصِلُ بَیۡنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک بیشک اللّٰہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بیشک ہر چیز اللّٰہ کے سامنے ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک مسلمان اور یہودی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور عیسائی اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک بیشک اللّٰہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک اللّٰہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
{اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک مسلمان۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جومسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور جو ستاروں کی پوجا کرنے والے ہیں او رجو عیسائی ہیں اور جو آگ کی پوجا کرنے والے ہیں اور جو مشرک ہیں، بیشک اللّٰہ تعالیٰ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور ان میں جو جنت کا مستحق ہو گا اسے جنت میں اور جوجہنم کا حق دار ہو گا اسے جہنم میں داخل کر دے گا۔ بیشک ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے ہے لہٰذا س فیصلے میں کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہوگا۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابوداؤد، کتاب العلم، باب فی القصص، ۳/۴۵۲، الحدیث: ۳۶۶۶۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶/۱۵، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۳۰۲، ملتقطاً۔