ایمان جنت میں داخلے کا سبب ہے اور نیک اعمال وہاں کی نعمتوں اور درجات میں اضافے کا باعث ہیں۔
مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقْطَعْ فَلْیَنۡظُرْ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَا یَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللّٰہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسّی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ دانؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو یہ خیال کرتا ہے کہ اللّٰہ دنیا اور آخرت میں اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا تو اسے چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی دراز کرلے پھر اپنے آپ کو پھانسی دیدے پھر دیکھے کہ کیا اس کے داؤپیچ نے وہ چیز مٹادی جس پر اسے غصہ آتا ہے۔
{مَنۡ کَانَ یَظُنُّ:جو یہ خیال کرتا ہے۔} اس آیت میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور آپ کے دین کی مخالفت کرنے اور ان سے دشمنی رکھنے والوں کی ناکامی اور محرومی کو بیان کیا گیا ہے ،چنانچہ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دین کو غلبہ عطا فرما کر اور آخرت میں ان کے درجے بلند فرما کر ان کی مدد نہیں فرمائے گا،لیکن اس کا خیال غلط ثابت ہوتا ہے اور وہ یوں غصے میں آجاتا ہے تو اسے چاہیے کہ غصہ دلانے والی چیز کو ختم کرنے کیلئے ہر طرح کی کوشش کرلے حتّٰی کہ گھر میں چھت سے رسی باند ھ کراپنے آپ کو پھانسی دے لے ، پھر اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی کوئی تدبیر اللّٰہ تعالیٰ کی وہ مدد روک سکتی ہے جس پر اسے غصہ آتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان کے دین کا مدد گار ہے اور ان کے حاسدین اور دشمنوں میں سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے دین کی مدد نہیں فرمائے گا،پھر اپنامطلب پورا نہ ہونے کی وجہ سے وہ جل بھُن گیا تو اسے چاہئے کہ کسی طرح آسمان تک پہنچ کراس مدد کو مَوقوف کروا دے جو ا س کے غیظ و غضب کا باعث ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی