Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
405 - 695
ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ مُرتد ہونے کے بعد بت پرستی کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے اس کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے کیونکہ وہ بے جان ہے ،ایسے خداؤں کی پوجاانتہا درجے کی گمراہی ہے۔(1)
{یَدْعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّہٗۤ اَقْرَبُ مِنۡ نَّفْعِہٖ:وہ اس کو پوجتے ہیں جس کانقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے۔} اس آیت میں نقصان سے مراد واقعی نقصان ہے ، یعنی دنیا میں قتل اور آخر ت میں دوزخ کا عذاب۔ اور نفع سے مراد ان کا خیالی نفع یعنی بتوں کی شفاعت وغیرہ ہے یعنی یہ کفار بتوں سے جس نفع کی امید رکھتے ہیں وہ تو بہت دور ہے کہ ناممکن ہے جبکہ ان کا حقیقی نقصان عنقریب ضرور دیکھ لیں گے۔ 
اِنَّ اللہَ یُدْخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ؕ اِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللّٰہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور بھلے کام کئے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں بیشک اللّٰہ کرتا ہے جو چاہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ بیشک اللّٰہ جوچاہتا ہے کرتا ہے۔
{اِنَّ اللہَ یُدْخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک اللّٰہ ایمان والوں کو داخل فرمائے گا ۔}اس سے پہلی آیات میں ایمان اور اسلام کے متعلق شکوک وشُبہات رکھنے والوں کا اور مُرتد ہونے کے بعد جن کی وہ پوجا کرتے تھے ان کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے ایمان پرثابت قدم رہنے والوں کا حال اور ان کے حقیقی معبود کی شان بیان کی جا رہی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ بیشکاللّٰہ تعالیٰ جوچاہتا ہے کرتا ہے اوراسی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ فرمانبرداروں پر انعام اور نافرمانوں پر عذاب فرماتا ہے۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۷۳۳، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۱۲، ۶/۱۲، ملتقطاً۔
2…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۱۴،  ۸/۲۱۰، ابوسعود، الحج، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴/۱۱، ملتقطاً۔