Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
404 - 695
جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ دنیا کا نقصان تو یہ ہے کہ جو ان کی امیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور مرتد ہو جانے کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا نقصان ہمیشہ کا عذاب ہے اوریہی کھلا نقصان ہے۔(1)
دین ِاسلام دُنْیَوی منفعت کی وجہ سے نہیں بلکہ حق سمجھ کر قبول کیا جائے:
	اس سے معلوم ہواکہ انسان دین ِاسلام کوحق سمجھ کرقبول کرے اور پھر اس پرڈٹ جائے چاہے نفع ہو یا نقصان، ہرحال میں خوش رہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاشکرا دا کرتا رہے کہ اس نے اسے اسلام جیسی عظیم لازوال دولت سے نوازا۔ اسی طرح نماز و عبادت وغیرہ کو دُنْیَوی نفع ونقصان کے ساتھ نہ تولا جائے بلکہ عبادت کی حیثیت ہی سے کیا جائے۔
یَدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَایَنۡفَعُہٗ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیۡدُ ﴿ۚ۱۲﴾ یَدْعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّہٗۤ اَقْرَبُ مِنۡ نَّفْعِہٖ ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَ لَبِئْسَ الْعَشِیۡرُ ﴿۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا بُرا بھلا کچھ نہ کرے یہی ہے دور کی گمراہی۔ ایسے کو پوجتے ہیں جس کے نفع سے نقصان کی توقع زیادہ ہے بیشک کیا ہی بُرا مولیٰ اور بیشک کیا ہی بُرا رفیق۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ اللّٰہ کے سوا اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ اسے نفع دے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ وہ اسے پوجتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے بیشک وہ کیا ہی برا مولیٰ ہے اور بیشک کیا ہی برا ساتھی ہے۔
{یَدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ: وہ اللّٰہ کے سوا اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے۔}
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۱۱،  ۳/۳۰۰-۳۰۱، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۷۳۳، ملتقطاً۔