Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
403 - 695
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیۡرُۨ اطْمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ آدمی اللّٰہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللّٰہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو وہ اس پرمطمئن ہوجاتاہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔ ایسا آدمی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔یہی کھلا نقصان ہے۔ 
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ:اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللّٰہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتا ہے۔} شانِ نزول:یہ آ یت دیہات میں رہنے والے عربوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو اَطراف سے آ کر مدینہ میں داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے ہاں بیٹا ہوا تب تو کہتے تھے کہ اسلام اچھا دین ہے، اس میں آ کر ہمیں فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی، مثلاً بیمار ہو گئے ،یا ان کے ہاں لڑکی پیداہو گئی، یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے :جب سے ہم اس دین میں داخل ہوئے ہیں ہمیں نقصان ہی ہوا اور اس کے بعد دین سے پھر جاتے تھے ۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں ابھی دین میں ثابت قدمی حاصل ہی نہیں ہوئی اور یہ دین کے معاملے میں اس طرح شک و تَرَدُّد میں رہتے ہیں جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص حرکت کی حالت میں ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی آزمائش آجائے اور کسی قسم کی سختی پیش آئے تو مُرتد ہو کر منہ کے بل پلٹ جاتے اور کفر کی طرف لوٹ