Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
399 - 695
{وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ:اور ہم ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔} مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایک دلیل قائم کرنے کے بعدپیدائش کے بعد کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہتے ہیں اسے ولادت کی مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں ،پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکالتے ہیں،پھر تمہیں عمر دیتے ہیں تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تمہاری عقل و قوت کامل ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور اس کو اتنا بڑھاپا آ جاتا ہے کہ عقل و حواس بجا نہیں رہتے اوربالآخر ایسا ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر کمزور، عقل ناقص اور فہم و سمجھ کم ہو جاتی ہے اور جو باتیں اسے معلوم ہوتی ہیں وہ بھول جاتا ہے۔(1)
انتہائی ضعیفی کی عمر میں عقل و حواس ختم ہونے سے محفوظ لوگ:
	یاد رہے کہ اس آیت میں بڑھاپے کے وقت انسان کی جو حالت بیان کی گئی اس سے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام محفوظ تھے کیونکہ اگر انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی بڑھاپے میں اس حال کو پہنچ جایا کرتے تو ان پر تبلیغ فرض نہ رہتی اور نبوت سَلب کر لی جاتی کہ اس صورت میں تبلیغ میں غلطی کا احتمال تھا لیکن چونکہ وہ حضرات آخری دم تک صاحبِ وحی نبی رہے اس لئے وہ اس حال سے محفوظ تھے۔ نیز اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے خاص اولیاء ِکرام کو بھی اس حال سے جدا رکھتا ہے اور ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں انتہائی ضعیفی کے عالم میں ا س حال سے بچا لیا جاتا ہے ، چنانچہ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جو شخص تلاوتِ قرآن کا عادی ہو گا وہ اس حالت کو نہ پہنچے گا (کہ اس کی عقل اور حواس قائم نہ رہیں)۔(2)
	اور علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ علماءِ کرام پر بھی یہ حالت طاری نہیں ہوتی بلکہ جیسے جیسے ان کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ان کی عقل بھی بڑھتی جاتی ہے۔(3)
 	نوٹ: انتہائی ضعیفی اور نکمے پن کی عمر سے متعلق کچھ کلام سورۂ نحل کی آیت نمبر 70 کی تفسیر میں گزر چکا ہے ، اسے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
{وَ تَرَی الْاَرْضَ ہَامِدَۃً:اور تو زمین کو مرجھایا ہوا دیکھتا ہے۔} یہاں سے مرنے کے بعد اٹھنے پر دوسری دلیل قائم کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۳۰۰، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵، ۶/۶-۷، ملتقطاً۔
2…جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۵، ص۲۷۸۔
3…صاوی، الحج، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۱۳۲۷۔