جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ (بالآخر) جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو مرجھایا ہوا دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ (تر و تازہ ہوکر)لہلہاتی ہے اور بڑھتی ہے اور وہ ہرقسم کا خوبصورت سبزہ اگاتی ہے۔
{یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ:اے لوگو!۔} اس سے پہلی آیت میںشیطان کی پیروی کرنے پر ڈانٹا گیا اور ا س آیت میں ان لوگوں پر حجت قائم فرما ئی جا رہی ہے جومرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر ہیں ،چنانچہ اس کی پہلی دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن اٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہو تواس بات پر غور کرلو کہ ہم نے تمہاری نسل کی اصل یعنی تمہارے جَدِّ اعلیٰ ،حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے پیدا کیا، پھران کی تمام اولاد کو منی کے قطرے سے، پھر جمے ہوئے خون سے کہ نطفہ گاڑھا خون ہو جاتا ہے ،پھر گوشت کی بوٹی سے جس کی شکل بن چکی ہوتی ہے اور ادھوری بھی ہوتی ہے سے پیدا کیا۔ انسان کی پیدائش کا حال اس لئے بیان فرمایا گیا تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی قدرت کو ظاہر فرمائیں اور تم اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے کمال کو جان لو اور اپنی پیدائش کے ابتدائی حالات پر نظر کر کے سمجھ لو کہ جو قادرِ برحق بے جان مٹی میں اتنے اِنقلاب کر کے جاندار آدمی بنا دیتا ہے وہ مرے ہوئے انسان کو زندہ کردے تو یہ اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔(1)
انسانی تخلیق کے مَراحل:
اللّٰہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف کس طرح منتقل کرتا ہے ،اس کا کچھ بیان تو اس آیت میں ہوا اوراس کی مزید تفصیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے،چنانچہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تم لوگوں کی پیدائش کا مادہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں رہتا ہے، پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون ہو جاتا ہے، پھر اتنی ہی مدت گوشت کی بوٹی کی طرح رہتا ہے، پھر اللّٰہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق ،اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے، پھر اس میں روح پھونک دیتاہے۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۲۹۹-۳۰۰۔
2…بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب خلق آدم صلوات اللّٰہ علیہ وذرّیتہ،۲/۴۱۳،الحدیث: ۳۳۳۲، مسلم، کتاب القدر، باب کیفیّۃ الخلق الادمیّ فی بطن امّہ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۱، الحدیث: ۱(۲۶۴۳)۔