Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
392 - 695
اَعمال (کابدلہ) دیکھیں اور جس دن زمین اور پہاڑ اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے، اس دن عظیم واقعہ رونما ہوگا اور آسمان پھٹ جائیں گے حتّٰی کہ ان کی بنیادیں کمزور پڑجائیں گی ،فرشتے ان کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوگا، اس دن تم سب کو پیش ہونا ہوگا اور تم سے کوئی بھی بات پوشیدہ نہ ہو گی ، جس دن پہاڑ چلیں گے اور تم زمین کو کھلی ہوئی دیکھو گے ، جس دن زمین کانپے گی اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے والی گَرد بن جائیں گے ، جس دن انسان بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دُھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے، اس دن ہر دودھ پلانے والی دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے، لیکن اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا۔ جس دن یہ زمین و آسمان دوسری زمین میں بدل جائیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جس دن پہاڑ اڑا کر بکھیر دیئے جائیں گے اور صاف زمین باقی رہ جائے گی، اس میں کوئی ٹیڑھا راستہ (موڑ وغیرہ) اور ٹیلے نہیں ہوں گے ، جس دن تم پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھو گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے، جس دن آسمان پھٹ کر گلابی لال چمڑے کی طرح ہوجائیں گے اور اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ اس دن گناہ گار کو بولنے سے روک دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے جرموں کے بارے میں پوچھا جائے گا، بلکہ پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے گرفت ہوگی ، جس دن ہر شخص اپنے اچھے عمل کو سامنے پائے گا اور برے عمل کو بھی اور وہ چاہے گا کہ اس برے عمل اور اس (شخص) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو۔ جس دن ہر نفس اس چیز کو جان لے گا جو وہ لایا ہوگا اور جو آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا وہ سب حاضر ہوگا۔ جس دن زبانیں گُنگ ہوں گی اور باقی اَعضاء بولیں گے، یہ وہ عظیم دن ہے جس کے ذکر نے نبی اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بوڑھا کردیا ۔ جب حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے ہیں ،تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ اور وہ دوسری سورتیں سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ اور اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ (وغیرہ) ہیں۔تو اے قرآن پڑھنے والے عاجز انسان! تیرا قرآن مجید پڑھنے سے صرف اتنا حصہ ہے کہ تو اس کے ساتھ زبان کو حرکت دے دے ، اگر تو قرآن مجید میں جو کچھ پڑھتا ہے اس میں غور و فکر کرتا تو اس لائق تھا کہ ان باتوں سے تیرا کلیجہ پھٹ جاتا جن باتوں نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ