{یَوْمَ تَرَوْنَہَا:جس دن تم اسے دیکھو گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(1)
قیامت کے ذکر سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال:
بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔(2)
یہ ان ہستیوں کا حال ہے جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور ان میں سے بعض کو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے تو کہیں زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ نہ تو کوئی ایسا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے ساتھ فرمایا گیا اور نہ ہی دنیا میں ہمیں جنت کی قطعی بشارت مل چکی ہے لیکن افسوس! فی زمانہ قیامت سے لوگوں کی غفلت انتہائی عروج پر نظر آ رہی ہے اور نجانے کس امید پر وہ قیامت کے بارے میں بے فکر ہیں۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اے مسکین! جس دن کی یہ عظمت ہے وہ اس قدر بڑا ہے، حاکم زبردست اور زمانہ قریب ہے تو تواس دن کے لیے تیاری کر لے جس دن تو دیکھے گا کہ آسمان پھٹ گئے، اس کے خوف سے ستارے جھڑگئے، روشن ستاروں کی چمک ماند پڑگئی، سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی، پہاڑ چلنے لگے، پانی لانے والی اونٹنیاں کھلی پھرنے لگیں، جنگلی جانور جمع ہوگئے، سمندر ابلنے لگے، روحیں بدنوں سے جاملیں ،جہنم کی آگ بھڑکائی گئی، جنت قریب لائی گئی ، پہاڑ اڑائے گئے اور زمین پھیلائی گئی اور جس دن تم دیکھو گے کہ زمین میں زلزلہ برپا ہوگا، زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی اور لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے تاکہ اپنے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۲۹۸۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۶/۳۔