Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
393 - 695
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بوڑھا کردیا تھا ، اگر تم صرف زبان کی حرکت پر قناعت کرو گے تو قرآنِ مجید کے ثَمرے سے محروم رہو گے۔(1) اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح طریقے سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور اس میں مذکور ڈرانے والی باتوں پر غوروفکر کرنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنی کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللہِ بِغَیۡرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیۡطٰنٍ مَّرِیۡدٍ ۙ﴿۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللّٰہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بے جانے بوجھے اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللّٰہ کے بارے میں بغیر علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ 
{وَ مِنَ النَّاسِ:اور کچھ لوگ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیاں اور اس کی شدت بیان فرمائی اور لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرنے کا حکم دیا اور ا س آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرما رہا ہے جو قیامت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآنِ مجید کو گزشتہ لوگوں کے قصے بتاتا تھا اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا منکر تھا ۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کچھ لوگ وہ ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کی شان کے بارے میں علم کے بغیر جھگڑتے ہیں اور اس کی شان میں باطل باتیں کہتے ہیں اور وہ اپنے جھگڑنے اور عمومی اَحوال میں ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔(2)
علمِ کلام اچھا علم ہے:
	اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں علم کے بغیر بحث کرنا حرام ہے ۔ صرف علماءِ دین تحقیق کے لئے اس کی ذات و صفات میں بحث کر سکتے ہیں بشرطیکہ جھگڑا مقصود نہ ہو بلکہ صرف اعتراضات کا اٹھانا اور حق کی تحقیق
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ،  ۵/۲۷۴-۲۷۵۔
2…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۳، ۸/۲۰۲، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۲۹۹، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳، ۶/۴، ملتقطاً۔