Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
390 - 695
{یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمْ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔} اس سورۂ  مبارکہ کی پہلی آیت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ تقویٰ اور خوفِ خدا ہی ایسی چیزیں ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اَعمال واَخلاق کی اصلاح کرتا ہے اور معاشرہ میں ایک اچھا انسان بن کر رہتا ہے۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوفِ خداوندی پر سب سے زیادہ ابھارنے والی چیز قیامت ہے لہٰذا اس کاتذکرہ بھی اسی آیت میں کردیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں ،اس کا حساب وکتاب اور اس کے اَحوال پیش ِنظر ہوں گے توکوئی بھی انسان کسی دوسرے کی حق تَلفی ،ظلم وستم ، اور کسی قسم کی بھی زیادتی نہیں کرے گا۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔(1)
یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللّٰہ کی مار کڑی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللّٰہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۲۹۸، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۳۰، ملتقطاً۔