سورۂ حج
سورۂ حج کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ حج کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ ’’ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ‘‘ سے لے کر ’’وَ ہُدُوۡۤا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیۡدِ‘‘ تک 6 آیتیں مدنی ہیں اور باقی آیتیں مکی ہیں۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور امام مجاہد رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا ایک قول یہ ہے کہ سورۂ حج مکی ہے البتہ ’’ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ‘‘سے لے کر تین آیتیں مدنی ہیں ۔ جمہور کے نزدیک سورۂ حج کی بعض آیتیں مکی ہیں اور بعض مدنی ہیں اور یہ متعین نہیں ہے کہ کون سی آیتیں مکی ہیں اور کون سی آیتیں مدنی ہیں۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 10 رکوع ، 78 آیتیں ،1291 کلمات اور 5075 حروف ہیں۔(2)
’’حج ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورئہ مبارکہ میں حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے، اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔
سورۂ حج کے بارے میں حدیث:
حضر ت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،میں نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی ہے کہ ا س میں دو سجدے ہیں۔ ارشاد فرمایا ’’ہاں! اور جو شخص یہ دو سجدے نہ کرے وہ ان دونوں کو نہ پڑھے۔(3) مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں’’یہ حدیث حضرت امام شافعی (رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)کی دلیل ہے کہ سورہ ٔحج میں دو سجدے ہیں ۔ امام اعظم (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کے نزدیک (مجموعی اعتبار
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، تفسیر سورۃ الحج، ۳/۲۹۸، قرطبی، تفسیر سورۃ الحج، ۶/۳، الجزء الثانی عشر، ملتقطاً۔
2…خازن، تفسیر سورۃ الحج، ۳/۲۹۸۔
3…ترمذی، کتاب السفر، باب ما جاء فی السجدۃ فی الحج، ۲/۹۵، الحدیث: ۵۷۸۔