{وَ اِنْ اَدْرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ:اور میں نہیں جانتا کہ شایدوہ تمہاری آزمائش ہو ۔} یعنی میں نہیں جانتا کہ شاید دنیا میں عذاب کو مُؤخَّر کرنا تمہاری آزمائش ہو جس سے تمہارا حال ظاہر ہو جائے اور اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کے مطابق موت کے وقت تک کیلئے تمہیں فائدہ دینا ہو تاکہ یہ تم پر حجت ہو جائے۔(1)
قٰلَ رَبِّ احْکُمۡ بِالْحَقِّ ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے اور ہمارے رب رحمن ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نبی نے عرض کی: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور ہمارا رب رحمن ہی ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔
{قٰلَ رَبِّ احْکُمۡ بِالْحَقِّ:نبی نے عرض کی: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔} یہاں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے اللّٰہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی :اے میرے رب! میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں اس طرح حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ چنانچہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یہ دعا قبول ہوئی اور جنگ ِبدر، جنگ ِاَحزاب اور جنگ ِحُنَین وغیرہ میں کفار مبتلائے عذاب ہوئے۔ آیت کے آخر میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیاکہ آپ کافروں کو وعید بیان کرتے ہوئے فرما دیں کہ ’’ ہمارا رب رحمن ہی ہے جس سے شرک و کفر اور بے ایمان کی ان باتوں کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۵/۵۳۰۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳/۲۹۸۔