Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
385 - 695
	اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ کے لئے درایت کالفظ استعمال نہیں کیا جاتا ،لہٰذا یہاں اللّٰہ تعالیٰ کے بتائے بغیر محض اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مُطْلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے شروع میں آ چکا ہے ’’وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ‘‘یعنی اور سچا وعدہ قریب آگیا۔ تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قریب اور دور ہونا کسی طرح معلوم نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے جاننے کی نفی ہے۔(1)
اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَہۡرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾ وَ اِنْ اَدْرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَ مَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللّٰہ جانتا ہے آواز کی بات اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور میں کیا جانوں شاید وہ تمہاری جانچ ہو اور ایک وقت تک برتوانا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو ۔ اور میں نہیں جانتا کہ شاید وہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک وقت تک کیلئے فائدہ دینا ہے۔
{اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَہۡرَ مِنَ الْقَوْلِ:بیشک اللّٰہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے۔}یعنی اے کافرو! تم جو بلند آواز سے قرآنِ مجید کی آیات کو جھٹلاتے اور اسلام پر اعتراضات کرتے ہو بے شک اللّٰہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں سے جو حسد و عداوت تم چھپاتے ہو اسے بھی اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے تو وہ تمہیں ا س پر جہنم کی دردناک سزا دے گا۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خزائن العرفان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۶۱۷۔
2…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۵/۵۳۰۔