پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو: میں نے تمہیں برابری کی بنیاد پر خبردار کردیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں جو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے؟
{فَاِنۡ تَوَلَّوْا:پھر اگر وہ منہ پھیریں۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ پھر اگر وہ کفار اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں تو آپ ان سے فرما دیں کہ میں نے تم سے لڑائی کا اعلان کر دیا ہے اور اس سے متعلق جاننے میں ہم اور تم برابر ہیں لیکن میں نہیں جانتا ہے کہ مجھے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے تم سے جنگ کرنے کی اجازت کب ملے گی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، پھر اگر وہ کفار منہ پھیریں اور اسلام نہ لائیں تو آپ ان سے فرما دیں: اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت سے متعلق جس چیز کا مجھے حکم دیا گیا میں نے تمہیں برابری کی بنیاد پر ا س کے بارے میں خبردار کردیا ہے اور رسالت کی تبلیغ کرنے اور نصیحت کرنے میں تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے اور میں اللّٰہ تعالیٰ کے بتائے بغیر نہیں جانتا کہ تمہیں عذاب یا قیامت کاجو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے۔(1)
{وَ اِنْ اَدْرِیۡۤ:اور میں نہیں جانتا ۔} آیت کے اس حصے کے بارے میں صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خزائن العرفان میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں دِرایت کی نفی فرمائی گئی ہے۔ درایت ’’اندازے اور قِیاس سے جاننے ‘‘کو کہتے ہیں جیسا کہ امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مفرداتِ امام راغب میں اور علامہ شامی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ردُّالمحتار میں ذکر کیا ہے، اور قرآن کریم کے اِطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا: ’’مَا کُنۡتَ تَدْرِیۡ مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیۡمَانُ‘‘(2)
(ترجمۂکنزُالعِرفان: اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۸/۱۹۵، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۵/۵۳۰، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۲۷۸، ملتقطاً۔
2…شوری:۵۲۔