اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں مُطْلَق طور پر تمام جہانوں کے لئے رحمت ہونا بیان فرمایا،اسی وجہ سے عالَمین پر آپ کی رحمت کبھی منقطع نہ ہو گی، دنیا میں کبھی آپ کا دین منسوخ نہ ہو گا اور آخرت میں ساری مخلوق یہاں تک کہ (حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شفاعت کے محتاج ہوں گے۔(1)
قُلْ اِنَّمَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللّٰہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ :مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟
{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ کے واحد معبود ہونے پرکئی دلائل پیش کئے گئے اور فرمایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے، اب یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ کافروں سے فرما دیں کہ معبود کے معاملے میں میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے اللّٰہ تعالیٰ کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں لہٰذاتم اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لا کر مسلمان ہو جاؤ۔(2)
فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنۡتُکُمْ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَ اِنْ اَدْرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا برابری پر اور میں کیا جانوں کہ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵/۵۲۸۔
2…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۸/۱۹۴، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳/۲۹۷، ملتقطاً۔