Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
378 - 695
عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ 
{وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعْدِ الذِّکْرِ:اور بیشک ہم نے نصیحت کے بعد زبورمیں لکھ دیا۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں زبور سے وہ تمام کتابیں مراد ہیں جو انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوحِ محفوظ ہے، اور آیت کا معنی یہ ہے کہ لوحِ محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے تمام آسمانی کتابوں میں لکھ دیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ زبور سے وہ آسمانی کتاب مراد ہے جوحضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپرنازل ہوئی اور ذکر سے مراد تورات ہے، اور آیت کا معنی یہ ہے کہ تورات میں لکھنے کے بعد زبور میں لکھ دیا۔(1)
{اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ:کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔} اس زمین سے مراد جنت کی زمین ہے جس کے وارث اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے ہوں گے ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اس سے کفار کی زمینیں مراد ہیں جنہیں مسلمان فتح کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے شام کی زمین مراد ہے جس کے وارث اللّٰہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے ہوں گے جو اس وقت شام میں رہنے والوں کے بعد آئیں گے۔(2)
اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں کو۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳/۲۹۷، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۷۲۸، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳/۲۹۷۔