Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
377 - 695
اس حالت میں اُٹھو گے : ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ، مگر تمام انبیاءِکرام اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتّٰی کہ بعض اولیاء اللّٰہ بھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ ان کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔ جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میں قبر انور سے اُٹھوں گا اور فوراً مجھے جنتی جوڑا پہنا دیا جاوے گا ۔ لہٰذا یہاں اس فرمان عالی سے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَ سَلَّمَ بلکہ تمام انبیاء ،بعض اولیاء مُستَثنیٰ ہیں۔(1)
	اور فقیہ اعظم مفتی ابو الخیر نورُاللّٰہ نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ خطاب امت کو ہے جس کاظاہر یہ ہے کہ حضرات انبیاءِکرام سب مُستَثنیٰ ہیں ،اوروہ سب بِفَضْلِہٖ تعالیٰ لباس میں ہونگے، ہاں تشریفی خِلعتیں بھی علیٰ حسب ِالمدارج ان حضرات کیلئے وارد ہیں (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) بہرحال اس حدیث سے ثابت ہورہا ہے کہ امتی ننگے ہوں گے۔(2)
	دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :آیاتِ مُتَکاثِرہ اور اَحادیثِ مُتَواترہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرات صحابۂ کرام اور اولیاءِ عظام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْکا حشر بھی لباس میں ہوگا کہ یہ سب حضرات مُنْعَم عَلَیہم ہیں اور ان کے لئے حضرات ِانبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَعِیَّت ورفاقتِ خاصہ بَحکمِ قرآن کریم صراحۃً ثابت ہے۔ پ 5 ع6 میں ہے ’’وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا‘‘اس انعام ومعیت ورفاقت سے ہی واضح ہورہا ہے کہ وہ بھی انبیاءِکرام  کی معیت میں لباس میں ہوں گے بالخصوص جبکہ یہ حضرات ہیں ہی صدیقین یاشہدا سے یا صالحین۔(3)
{وَعْدًا عَلَیۡنَا:یہ ہمارے اوپر ایک وعدہ ہے۔} یعنی تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے کی طرح دوبارہ پیدا کرنا ہمارے اوپر ایک وعدہ ہے اور اسے ہم ضرور پورا کریں گے۔(4)
وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مراٰۃ المناجیح ، حشر کابیان، پہلی فصل، ۷/ ۲۹۰، تحت الحدیث: ۵۲۹۳۔
2…فتاوی نوریہ، کتاب العقائد، ۵/۱۲۵۔
3…فتاوی نوریہ، کتاب العقائد، ۵/۱۲۹۔
4…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۵/۵۲۶۔