Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
379 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس قرآن میں عبادت کرنے والوں کیلئے کافی سامان ہے۔
{اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا:بیشک اس قرآن میں کافی سامان ہے۔} یعنی قرآن کریم مومن عبادت گزاروں کو ہدایت و رہبری کے لئے کافی ہے بشرطیکہ اسے صاحب ِقرآن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیم و تفہیم کے ماتحت سمجھا جائے، محض عقل سے سمجھنا کافی نہیں اور جو اس کی پیروی کرے اور اس کے مطابق عمل کرے وہ مراد کو پہنچے اور جنت پائے گا۔ عباد ت کرنے والوں سے مراد مومنین ہیں جواللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور ایک قول یہ ہے کہ اُمتِ مُحمدیَّہ مراد ہے جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں رمضان کے روزے رکھتے ہیںاور حج کرتے ہیں۔(1)
وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔ 
{وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔
حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رحمت:
	تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنبیوں، رسولوں اور فرشتوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے رحمت ہیں، دین و دنیا میں رحمت ہیں، جِنّات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں، مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں ، حیوانات، نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں ، سیّدُ المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان سب کے لئے رحمت ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا رحمت ہونا عام ہے، ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مومن کے لئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۳/۲۹۷۔