Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
376 - 695
کی موت کے وقت اس کے نامہ ِاعمال کو لپیٹتا ہے۔(1)
سِجِلّ کا معنی:
	سجل سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ سجل تیسرے آسمان پر موجود اس فرشتے کا نام ہے جس تک بندوں کی موت کے بعد ان کے اعمال نامے پہنچائے جاتے ہیں اور وہ فرشتہ ان اعمال ناموں کو لپیٹ دیتا ہے، چنانچہ ابو حیان محمد اندلسی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااور مفسرین کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ سجل ایک فرشتہ ہے ،جب اس تک بندوں کے نامہِ اعمال پہنچائے جاتے ہیں تو وہ انہیں لپیٹ دیتا ہے۔(2)
{کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗ:ہم اسے دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا ۔} یعنی ہم نے جیسے پہلے انسان کو عدم سے بنایا تھا ویسے ہی پھر معدوم کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردیں گے، یا اس کے یہ معنی ہیں کہ جیسا اسے ماں کے پیٹ سے برہنہ اورغیر ختنہ شدہ پیدا کیا تھا ایسا ہی مرنے کے بعد اُٹھائیں گے۔(3)
اَنبیاء، صحابہ اور اولیاء کا حشر لباس میں ہو گا:
	اس آیت کی دوسری تفسیر سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر ایسے ہو گا کہ ان کے بدن ننگے ہوں گے اور ان کا ختنہ بھی نہیں ہوا ہو گا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اے لوگو! تم اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختنہ کئے جمع کئے جاؤ گے۔(4)
	البتہ یہاں یہ یاد رہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اولیاءِ کرام  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْقیامت کے دن اس حال سے محفوظ ہوں گے اور ان کا حشر لباس میں کیا جائے گا۔ جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں :اس فرمانِ عالی میں اِنَّکُمْ فرما کر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۸/۱۹۱، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ص۲۷۷، ملتقطاً۔
2…البحر المحیط، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۶/۳۱۷۔
3…جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ص۲۷۷، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۳/۲۹۶، ملتقطاً۔
4…مسلم،کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا،باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ،ص۱۵۳۰،الحدیث:۵۸(۲۸۶۰)۔