چنانچہ حضرت عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تین افراد ایسے ہیں جنہیںقیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ پریشان نہیں کرے گی ، انہیں حساب کی سختی نہ پہنچے گی اور وہ مخلوق کا حساب ختم ہونے تک کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ۔ (۱) وہ شخص جس نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قرآن پڑھا اور ا س کے ساتھ کسی قوم کی امامت کی اور وہ ا س سے را ضی ہوں۔ (۲) وہ شخص جو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے لوگوں کو پانچوں نمازوں کی طرف اذان دے کر بلائے۔ (۳) وہ غلام جواللّٰہ تعالیٰ کاحق اور اپنے آقاؤں کا حق اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے۔(1)
یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ؕ کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗ ؕ وَعْدًا عَلَیۡنَا ؕ اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سِجِل فرشتہ نامہ اعمال کو لپیٹتا ہے ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ نامۂ اعمال کو لپیٹتا ہے۔ہم اسے دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا ۔ یہ ہمارے اوپر ایک وعدہ ہے، بیشک ہم ضرور یہ کرنے والے ہیں۔
{یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ:یاد کروجس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جن لوگوں سے بھلائی کا وعدہ ہو چکا انہیں اس دن سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی جس دن ہم آسمان کواس طرح لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ بندے کی موت کے وقت اس کے نامہ ِاعمال کو لپیٹتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جن لوگوں سے بھلائی کا وعدہ ہو چکا فرشتے ا س دن ان کا استقبال کریں گے جس دن ہم آسمان کواس طرح لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ بندے کی موت کے وقت اس کے نامہ ِاعمال کو لپیٹتا ہے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ یاد کروجس دن ہم آسمان کواس طرح لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ بندے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم الصغیر، باب الواو، من اسمہ: الولید، ص۱۲۴، الجزء الثانی۔