اس سے وہ وقت مراد ہے جب موت کو ذبح کر کے یہ ندا دی جائے گی کہ اے جہنم والو! تمہیں اب موت کے بغیر جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے۔
مزید فرمایا کہ قبروں سے نکلتے وقت مبارک باد دیتے اور یہ کہتے ہوئے فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہیں ثواب ملنے کا وہ دن ہے جس کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(1)
سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہنے والے لوگ:
اَحادیث میں چند ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے، ترغیب کے لئے یہاں ان پانچ خوش نصیب افراد کا ذکر کیا جاتا ہے جن کا ذکر اَحادیث میں ہے،
(1)…شہید۔ چنانچہ حضرت مقدام بن معدی کرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شہید کے لئے چھ خصلتیں ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی ا س کی بخشش ہو جاتی ہے۔ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔ اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ بڑی آنکھوں والی 72 حوریں ا س کے نکاح میں دی جائیں گی اور ا س کے ستر رشتہ داروں کے حق میں ا س کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(2)
(2)…رضائے الٰہی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدائ،ان کے لئے قیامت کے دن نور کے منبر رکھے جائیں گے ،ان کے چہرے بھی نورانی ہوں گے اوروہ قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔ ایک شخص نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کون لوگ ہیں؟ ارشاد فرمایا’’وہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے اللّٰہ تعالیٰ کی رضاکی خاطر محبت رکھتے ہوں گے۔(3)
(3،4،5)…جس امام سے مقتدی خوش ہوں، روزانہ اذان دینے والا، اللّٰہ تعالیٰ اور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا غلام۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ص۷۲۷، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۳/۲۹۶، ملتقطاً۔
2…ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب فی ثواب الشہید، ۳/۲۵۰، الحدیث: ۱۶۶۹۔
3…معجم الکبیر،من اسمہ:معاذ، معاذ بن جبل الانصاری۔۔۔الخ، رجال غیر مسمّین عن معاذ،۲۰/۱۶۸،الحدیث: ۳۵۸۔