{اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ:وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں جہنم کے عذاب اور اس کی اَذِیّت و تکلیف سے دور رکھا جائے گا کیونکہ جب مومنین جہنم کے اوپر سے گزریں گے تو جہنم کی آگ ٹھندی ہونے لگے گی اور وہ کہے گی اے مومن !جلدی سے گزر جا کیونکہ تیرے نورنے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے۔لہٰذا ایمان والوں کا جہنم کے اوپر سے گزرنا اس آیت کے مُنافی نہیں ہے۔(1)
لَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ ہُمْ فِیۡ مَا اشْتَہَتْ اَنۡفُسُہُمْ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ اس کی بھنک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
{لَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا:وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے۔} بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ جنت کی مَنازل میں آرام فرما ہوں گے تووہ جہنم کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور اس کے جوش کی آواز بھی ان تک نہ پہنچے گی ، اور وہ جنت میں اپنی دل پسند نعمتوں اور کرامتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔(2)
{لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ:انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’سب سے بڑی گھبراہٹ سے مراد دوسری بار صُور میں پھونکا جانا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۴/۱۳۲۰۔
2…جمل، الانیباء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۵/۱۶۴، قرطبی، الانیباء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶/۲۰۴، ملتقطاً۔