تم کیا کیا کرنے والے ہو، بایں ہمہ اس نے تم سب سے حُسنیٰ کا وعدہ فرمایا۔ یہاں قرآنِ عظیم نے ان دریدہ دہنوں، بیباکوں، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابۂ کرام کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں ، وہ بشرطِ صحت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو معلوم تھے ،پھر بھی اُن سب سے حُسنیٰ کا وعدہ فرمایا ، تو اب جومُعترض ہے اللّٰہ واحدقہار پر معترض ہے، جنت ومدارجِ عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ہاتھ ہیں ،معترض اپنا سرکھاتا رہے گا اور اللّٰہ نے جو حُسنیٰ کا وعدہ اُن سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا، وہ آ یۂ کریمہ یہ ہے:
’’لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ‘‘(1)
اے محبوب کے صحابیو!تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا، وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں، اور دونوں فریق سے اللّٰہنے حُسنیٰ کا وعدہ کرلیا، اور اللّٰہخوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
اب جن کے لیے اللّٰہکا وعدہ حُسنیٰ کا ہولیا اُن کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے:
’’اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤیۙ اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ لَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ ہُمْ فِیۡ مَا اشْتَہَتْ اَنۡفُسُہُمْ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ‘‘(2)
بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حُسنیٰ کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں، اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
یہ ہے جمیع صحابۂ کرام سیّدُ الانام عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے قرآن کریم کی شہادت۔ امیرالمومنین ، مولی المسلمین ،علی مرتضیٰ مشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم قسمِ اول میں ہیں جن کو فرمایا ’’ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً‘‘ اُن کے مرتبے قسمِ دوم والوں سے بڑے ہیں۔ اور امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقسمِ دوم میں ہیں، اور حُسنیٰ کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…حدید:۱۰۔
2…انبیاء: ۱۰۱-۱۰۳۔
3…فتاوی رضویہ، ۲۹/۲۷۹-۲۸۰۔