(3)…مومن بندے کے نیک عمل مقبول ہیں ،البتہ ا س میں ایمان کے ساتھ ساتھ دو اور چیزوں کا ہونا بھی ضروری ہے (۱) نیک نیت۔ (۲) عمل کوحکم کے مطابق ادا کرنا، جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمۡ مَّشْکُوۡرًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
(4)…بندے کے اعمال لکھنے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کراماً کاتبین کو مقرر فرمایا ہے اور ان کا لکھنا چونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہے ا س لئے یہ لکھنا اللّٰہ تعالیٰ کا لکھنا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے بعض کام اللّٰہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں۔
وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہۡلَکْنٰہَاۤ اَنَّہُمْ لَایَرْجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾ حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتْ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں ۔ یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا اس پر حرام ہے کہ لوٹ کرنہ آئیں۔ یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اوروہ ہر بلندی سے تیزی سے اترتے ہوئے آئیں گے۔
{وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہۡلَکْنٰہَاۤ اَنَّہُمْ لَایَرْجِعُوۡنَ:اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا اس پر حرام ہے کہ لوٹ کرنہ آئیں۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان کئے ہے (1) جس بستی کے لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا ان کا اپنے اَعمال کی تَلافی اور اپنے اَحوال کے تَدارُک کے لئے دنیا کی طرف واپس آنا ناممکن ہے۔ (2) جس بستی والوں کو ہم نے ہلاک کرنے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بنی اسرائیل:۱۹۔