Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
367 - 695
کا فیصلہ کر دیا ان کا شرک اور کفر سے واپس آنا محال ہے۔ (3) جس بستی کے لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا ان کاقیامت کے دن زندہ ہونے کی طرف نہ لوٹنا ناممکن ہے یعنی وہ قطعاً قیامت کے دن لوٹ کر آئیں گے۔(1)
{حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتْ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ:یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔} یاجوج ماجوج دو قبیلوں کے نام ہیں، جب قیامت آنے کا وقت قریب ہو گا تو یاجوج اور ماجوج کو روک کر رکھنے والی دیوار کو کھول دیا جائے گا اور وہ زمین کی ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ لوگوں کی طرف اترتے ہوئے آئیں گے۔(2)
	نوٹ: یاجوج اور ماجوج سے متعلق تفصیلی کلام سورۂ کہف کی آیت نمبر 94 تا 99 کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شٰخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ یٰوَیۡلَنَا قَدْ کُنَّا فِیۡ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور قریب آیا سچا وعدہ تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سچا وعدہ قریب آگیا تو جبھی اس وقت کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے۔
{وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ:اور سچا وعدہ قریب آگیا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی تواس وقت اس دن کی ہَولناکی اور دہشت سے کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور وہ کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم دنیا کے اندر اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم اپنی جانوں پرظلم کرنے والے تھے کہ رسولوں کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں جھٹلاتے تھے۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۵، ۸/۱۸۵، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۵، ص۷۲۶، ملتقطاً۔
2…جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۶، ص۲۷۷، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۶، ص۷۲۶، ملتقطاً۔
3…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۷، ۳/۲۹۵، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۷، ص۲۷۷، ملتقطاً۔