سے تھا جس میں ہزارہا حکمتیں تھیں، اس لئے یہ اختلاف پکڑ کا باعث نہیں بلکہ لوگوں کا خود ساختہ اختلاف اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہے، لہٰذاآیت بالکل واضح ہے۔
{کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ:سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں۔} یہاںدین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کو خبردار کیاجا رہا ہے کہ دنیامیں تو جو تمہارے جی میں آتا ہے کرلو لیکن یاد رکھو کہ قیامت کادن آنے والا ہے اور اس دن تم سب کوہماری طرف لوٹناہے اس وقت تمہیں ہرچیزکی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَاکُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ۚ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں اور ہم اسے لکھ رہے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جو نیک اعمال کرے اوروہ ایمان والا ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں ہوگی اور ہم اسے لکھنے والے ہیں۔
{فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ:تو جو نیک اعمال کرے ۔} اس آیت میں بندوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی گئی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو نیک اعمال کرے اور وہ ایمان والا ہو تو اسے اس کے عمل کا ثواب نہ دے کر محروم نہ کیا جائے گا اور ہم اس کے عمل اَعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں جن میں کچھ کمی نہ ہو گی اور اللّٰہ تعالیٰ نیک اعمال کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرمائے گا۔(1)
آیت’’فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے
(1)… اعمال قبول ہونے کادارو مدار ایمان پر ہے ،اگرایمان ہے تو سب کچھ ہے اور اگر ایمان نہیں توپھر کچھ بھی نہیں۔
(2)… کوئی شخص چاہے کسی بھی قبیلے اور قوم سے تعلق رکھتا ہو، اس کی رنگت گوری ہو یاکالی ہو ،وہ دولت مند ہو یا مُفلس و غریب ہو، وہ مرد ہو یا عورت، اگر وہ ایمان والا ہے تو اس کے کئے ہوئے نیک اعمال کا ثواب اللّٰہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۴، ۸/۱۸۴، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۴، ۵/۵۲۲، ملتقطاً۔