کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس عورت کو (یاد کرو) جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی خاص روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہان والوں کیلئے نشانی بنادیا۔
{وَالَّتِیۡۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا:اور اس عورت کو (یاد کرو) جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی ۔} یہاں سے حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا واقعہ بیان کیا جا رہاہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس مریم کو یاد کریں جس نے پورے طور پر اپنی پارسائی کی حفاظت کی کہ کسی طرح کوئی بشر اس کی پارسائی کو چھو نہ سکا تو ہم نے اس میں اپنی خاص روح پھونکی اور اس کے پیٹ میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوپیدا کیا اور اسے اور اس کے بیٹے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سارے جہان والوں کیلئے اپنی قدرت کے کمال کی نشانی بنادیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے پیٹ سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔(1)
پاک دامنی عورت کے لئے بہترین وصف ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے بہترین وصف یہ ہے کہ وہ پاک دامن رہے اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرے۔ پاک دامن رہنے والی عورت کے بارے میں حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ عورت جب اپنی پانچ نمازیں پڑھے ، اپنے ماہ رمضان کا روزہ رکھے ، اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے۔(2)
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو عورت اپنے رب سے ڈرے ، اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے اور ا س سے کہا جائے گا کہ تم جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳/۲۹۳۔
2…حلیۃ الاولیاء، ذکر طوائف من النساک والعباد، الربیع بن الصبیح، ۶/۳۳۶، الحدیث: ۸۸۳۰۔
3…معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ: عبد الرحمن، ۳/۳۱۹، الحدیث: ۴۷۱۵۔