ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو قابل بنا دیا۔ بیشک وہ نیکیوںمیں جلدی کرتے تھے اور ہمیں بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور ہمارے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔
{فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ:تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول کی اور انہیں سعادت مند فرزند حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامعطا فرمایا اورحضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے آپ کی زوجہ کا بانجھ پن ختم کر کے اسے اولاد پیدا کرنے کے قابل بنا دیا۔(1)
{اِنَّہُمْ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ:بیشک وہ نیکیوںمیں جلدی کرتے تھے۔} یعنی جن انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر ہوا ان کی دعائیں اس وجہ سے قبول ہوئیں کہ وہ نیکیوںمیں جلدی کرتے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کو بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔(2)
دعائیں قبول ہونے والا بننے کے لئے تین کام کئے جائیں:
اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ جو شخص ایسا ہونا چاہے کہ اس کی ہر دعا مقبول ہو ،اسے چاہئے کہ وہ یہ تین کام کرے (1) نیک کام کرنے میں دیر نہ لگائے۔ (2) امید اور خوف کے درمیان رہتے ہوئے ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ (3)اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اور اِنکساری کا اظہار کرے۔
وَالَّتِیۡۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلْنٰہَا وَابْنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس عورت کوجس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اسے اور اس
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۷۲۵۔
2…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۷۲۵۔