ترجمۂکنزالایمان: اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔
{وَزَکَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ:اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔} یہاںسے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے بے اولاد نہ چھوڑ بلکہ وارث عطا فرما اور تو سب سے بہتر وارث ہے یعنی اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا ہے۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں کیونکہ تو بہتر وارث ہے۔(1)
حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے معلوم ہونے والی باتیں:
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔
(1)… دین کی خدمت کے لئے بیٹے کی دعا اور فرزند کی تمنا کرنی سنت ِنبی ہے۔
(2)… جیسی دعا مانگے، اسی قسم کے نام سے اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرے۔چونکہ ان کافرزند اُن کے کمال کا وارث ہونا تھا، لہٰذا رب عَزَّوَجَلَّ کو وارث کی صفت سے یاد فرمایا۔
فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ ۫ وَ وَہَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی وَ اَصْلَحْنَا لَہٗ زَوْجَہٗ ؕ اِنَّہُمْ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ وَکَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لئے اس کی بی بی سنواری بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳/۲۹۳، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۷۲۵، ملتقطاً۔