Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
35 - 695
میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار، شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی حیران ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کاایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھی مَعَاذَاللّٰہ  مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر آپ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جنگ کی تھی۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضت،تقویٰ و طہارت اور رات رات بھر تلاوت ِقرآن کرنے کو خاطر میں نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔
	اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں، رقت انگیز اور درد بھری آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوتیں، اللّٰہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک ا س کے عقائد درست نہ ہوں، لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرتِ عبادت، تقویٰ و طہارت اور دیگر نیک نظر آنے والی چیزوں سے ہر گزمتأثِّر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دورہی رہے کہ اسی میں اس کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿۱۰۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں۔