ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں؟
{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے عمل کرنے میں مشقتیں اُٹھائیں اور یہ امید کرتے رہے کہ ان اعمال پر فضل و عطا سے نوازے جائیں گے مگر ا س کی بجائے ہلاکت و بربادی میں جا پڑے ۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا وہ لوگ یہودی اور عیسائی ہیں ۔بعض مفسرین نے کہا کہ وہ راہب لوگ ہیں جو گرجوں میں خَلْوَت نشین رہتے تھے ۔ حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ یہ لوگ اہلِ حَروراء یعنی خارجی لوگ ہیں۔(1)اورحقیقت میں سب ایک ہی مفہوم کی مختلف تعبیریں ہیں کیونکہ اس میںہر وہ شخص داخل ہے جو عبادت یا ظاہری اچھے اعمال میں محنت و مشقت تو کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ کسی ایسی چیز کا مرتکب بھی ہوتا ہے جس سے اس کا عمل مردود ہوجائے جیسے کفر۔
ظاہری اعمال اچھے ہونا حق پر ہونے کی دلیل نہیں:
اس سے اشارۃً یہ معلوم ہو اکہ کسی کے ظاہری اعمال اچھے ہونا اس کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، اور صحیح بخاری میں تو خارجیو ں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے ،یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔(2)
خارجیوں کا مختصر تعارف :
خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور ا س کے ساتھیوں کے بارے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۳/۲۲۷، روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۵/۳۰۴، ملتقطاً۔
2…بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲/۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۰۔