{اَلَّذِیۡنَ:وہ لوگ۔} اس سے پہلی آیت میں اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے والے لوگوں کی خبر دینے کے بارے میں فرمایا، اب ا س آیت میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور عمل باطل ہوگئے حالانکہ وہ اس گمان میں ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں جو انہیں آخرت میں نفع دے گا۔(1)
بدکار سے زیادہ بد نصیب:
یہ آیتِ مبارکہ بنیادی طور پر تو کافروں کے متعلق ہے لیکن اس سے اشارتاً یہ بھی معلوم ہوا کہ بدکار سے زیادہ بد نصیب وہ نیکوکار ہے جو محنت مشقت اٹھا کر نیکیاں کرے مگر اس کی کوئی نیکی اس کے کام نہ آئے، وہ اس دھوکے میں رہے کہ میں نیکو کار ہوں۔ ہم اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا ﴿۱۰۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
{اُولٰٓئِکَ:یہ لوگ۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر نیک اعمال کے باوجود خسارے کاشکار ہونے والے ،یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا ، رسول اور قرآن پر ایمان نہ لائے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے، حساب ،ثواب اور عذاب کے منکر رہے تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے اور انہیں ان اعمال پر کوئی ثواب نہ ملے گا۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۵/۳۰۴۔
2…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۵/۳۰۵، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳/۲۲۷، ملتقطاً۔