ترجمۂکنزالایمان: اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تیز ہوا کوسلیمان کے لیے تابع بنادیا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔
{وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً:اور تیز ہوا کوسلیمان کے لیے تابع بنادیا۔} اس سے پہلے وہ انعامات ذکر کئے گئے جو اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر فرمائے تھے اور اب یہاں سے وہ انعامات بیان کئے جا رہے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمائے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے تیز ہوا کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تابع بنادیا اور یہ ہواحضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حکم سے شام کی اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے نہروں،درختوں اور پھلوں کی کثرت سے برکت رکھی تھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔(1)
حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بادشاہی اور عاجزی:
اس سے معلوم ہو اکہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سلطنت عام تھی اور اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو انسانوں اور جنوں کے ساتھ ساتھ ہو اپر بھی حکومت عطا کی تھی، اتنی عظیم الشّان سلطنت کے مالک ہونے کے باوجود آپ فخرو تکبر سے انتہائی دور اور عاجزی واِنکساری کے عظیم پیکر تھے۔چنانچہ ایک روایت میں ہے، حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہمراہیوں کے درمیان یوں جارہے تھے کہ پرندوں نے آپ پر سایہ کررکھا تھا اور جن و انسان آپ کی دائیں بائیں جانب تھے ۔ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار کے پاس سے گزرے تو اس نے کہا :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے! آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے بہت بڑی بادشاہی عطا فرمائی ہے۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ بات سن کر فرمایا’’ مومن کے نامۂ اعمال میں ایک تسبیح اُس سے بہتر ہے جو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے کو دیا گیا ہے کیونکہ جو کچھ اسے دیا گیا وہ چلا جائے گا جبکہ تسبیح باقی رہے گی۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۱، ۸/۱۶۹، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۷۲۳، ملتقطاً۔
2…احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، ۳/۲۵۰-۲۵۱۔