اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک دن پر ندوں ، انسانوں ، جنوں اور حیوانات سے فرمایا’’ نکلو !پس آپ دو لاکھ انسانوں اور دولاکھ جنوں میں نکلے، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اٹھایا گیا حتّٰی کہ آپ نے آسمانوں میں فرشتوں کی تسبیح کی آواز سنی، پھر نیچے لایا گیا حتّٰی کہ آپ کے پاؤں مبارک سمندر کو چھونے لگے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک آواز سنی کہ اگر تمہارے آقا (حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو انہیں جس قدر بلند کیا گیا ہے اس سے بھی زیادہ نیچے دھنسا دیا جاتا۔(1)
’’فلاں کے حکم سے یہ کام ہوتا ہے‘‘ کہنا شرک نہیں:
اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ کہنا شرک نہیں کہ فلاں کے حکم سے یہ کام ہوتا ہے، جیسے یہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حکم سے ہوا چلتی تھی۔
وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَ یَعْمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور شیطانوں میں سے وہ جو اس کے لیے غوطہ لگاتے اور اس کے سوا اور کام کرتے اور ہم انہیں روکے ہوئے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کچھ جنات کو (سلیمان کے تابع کردیا) جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے اور ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے۔
{وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ:اورکچھ جنات کو جو اس کے لیے غوطے لگاتے۔} یہاں حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر کیا جانے والا دوسرا انعام بیان کیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کچھ جِنّات کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تابع کر دیا جو ان کے لیے غوطے لگاتے اور دریا کی گہرائی میں داخل ہو کر سمندر کی تہ سے آپ کے لئے جواہرات نکال کر
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذمّ الکبر والعجب، الشطر الاول، بیان ذمّ الکبر، ۳/۴۱۳۔