حلال رزق حاصل کرنے کیلئے جائز پیشہ اختیار کرنے کے فضائل:
حلال رزق حاصل کرنے کے لئے جو جائز ذریعہ، سبب، پیشہ اور صنعت اختیار کرنا ممکن ہو اسے ضرور اختیار کرنا چاہئے اور ا س مقصد کے حصول کے لئے کسی جائز پیشے یا صنعت کو اختیار کرنے میں شرم و عار محسوس نہیں کرنا چاہئے ، ترغیب کے لئے یہاں حلال رزق حاصل کرنے کیلئے جائز پیشہ اختیار کرنے کے چار فضائل ملاحظہ ہوں:
(1)…حضرت مقدام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کسی نے ہر گز اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور بے شک اللّٰہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔(1)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے،پھر کوئی اسے دے یا کوئی منع کر دے۔(2)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: کسی نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ ارشاد فرمایا ’’آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اچھی خریدو فروخت (یعنی جس میں خیانت اور دھوکہ وغیرہ نہ ہو)(3)
(4)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ پیشہ کرنے والے مومن بندے کو محبوب رکھتا ہے۔(4)
وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖۤ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیۡ بٰرَکْنَا فِیۡہَا ؕ وَکُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بخاری، کتاب البیوع، باب کسب الرّجل وعملہ بیدہ، ۲/۱۱، الحدیث: ۲۰۷۲۔
2…بخاری، کتاب البیوع، باب کسب الرّجل وعملہ بیدہ، ۲/۱۱، الحدیث: ۲۰۷۴۔
3…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۵۸۱، الحدیث:۲۱۴۰۔
4…معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: مقدام، ۶/۳۲۷، الحدیث: ۸۹۳۴۔