کاتابع بنا دینا، یہ سب ہمارے ہی کام تھے اگرچہ تمہارے نزدیک یہ کام بہت عجیب و غریب ہیں۔(1)
وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِکُمْ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمْ شٰکِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے بچائے تو کیا تم شکر کروگے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہارے فائدے کیلئے اسے ایک خاص لباس کی صنعت سکھا دی تاکہ تمہیں تمہاری جنگ کی آنچ سے بچائے تو کیا تم شکر اداکروگے؟
{وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمْ:اور ہم نے تمہارے فائدے کیلئے اسے ایک خاص لباس کی صنعت سکھا دی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے فائدے کے لئے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک لباس یعنی زرہ بنانا سکھا دیا جسے جنگ کے وقت پہنا جائے، تاکہ وہ جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے میںتمہارے کام آئے اور جنگ کے دوران تمہارے جسم کو زخمی ہونے سے بچائے، تو اے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے گھر والو! تم ہماری اس نعمت پر ہمارا شکر ادا کرو۔(2)
انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیشے:
انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مختلف پیشوں کو اختیار فرمایا کرتے اور ہاتھ کی کمائی سے تَناوُل فرمایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسلائی کا کام کیا کرتے تھے، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑھئی کا، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکپڑے کا، حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاشتکاری کا، حضرت موسیٰ اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبکریاں چرانے کا، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامچادر بنانے کا کام کیا کرتے تھے۔(3)اور ہمارے آقا دو عالَم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اگرچہ بطورِ خاص کوئی پیشہ اختیار نہیں فرمایا لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بکریاں چرائیں، تجارت فرمائی اور کچھ دیگر کام بھی فرمائے ہیں لہٰذا کسی جائز کام اور پیشے کو گھٹیا نہیں سمجھنا چاہئے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۲۸۵، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۲۷۵، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳/۲۸۵، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۷۲۳، ملتقطاً۔
3…روح البیان، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۵/۵۰۹، ۵۱۰ ، قرطبی، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۶/۱۸۵، الجزء الحادی عشر، ملتقطاً۔