(10)…علم کا اضافہ مال کے اضافے سے بہت بہتر ہے کیونکہ اگر ایک رات میں ہی سارا مال چلاجائے تو صبح تک بندہ فقیر و محتاج بن کررہ جاتا ہے جبکہ علم رکھنے والے کو فقیری کا خوف نہیں ہوتا بلکہ اس کا علم ہمیشہ زیادہ ہی ہوتا رہتا ہے اور یہی حقیقی مالداری ہے۔
(11)…مالدار کی قدرو قیمت اس کے مال کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ عالم کی قدر و قیمت ا س کے علم کی وجہ سے ہوتی ہے، چنانچہ جب مالدار کے پا س مال نہیں رہتا تو اس کی قدر و قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے جبکہ عالم کی قدرو قیمت کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔
(12)…مال کی زیادتی ا س بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مالدار شخص لوگوں پر احسان کرے اور جب مالدار لوگوں پر احسان نہیں کرتا تو لوگ اسے برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اسے قلبی طور پر رنج پہنچتا ہے اور اگر وہ لوگوں پر احسان کرنا شروع کر دیتا ہے تو لازمی طور پر وہ ہر ایک کے ساتھ احسان نہیں کرپاتا بلکہ بعض کے ساتھ کرتا ہے اور بعض کے ساتھ نہیں کرتا اور یوں وہ محروم رہ جانے والے کی طرف سے دشمنی اورذلالت کا سامنا کرتا ہے جبکہ علم رکھنے والا کسی نقصان کے بغیر ہر ایک پر اپنا علم خرچ کر لیتا ہے۔
(13)…مالدار جب مر جاتے ہیں تو ان کا تذکرہ بھی ختم ہو جاتا ہے جبکہ علماء کا ذکرِ خیر ان کے انتقال کے بعد بھی جاری و ساری رہتا ہے۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور علمِ دین کی اہمیت و فضیلت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
{وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ:اورہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع بنادیا۔} یہاں حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرکیا جانے والا انعام بیان فرمایا گیاکہ اللّٰہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو آ پ کا تابع بنادیا کہ پتھر اور پرندے آپ کے ساتھ آپ کی مُوافقت میں تسبیح کرتے تھے۔(2)
{وَکُنَّا فٰعِلِیۡنَ:اور یہ (سب) ہم ہی کرنے والے تھے۔} یعنی حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو معاملہ سمجھا دینا، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حکومت دینا اور پہاڑوں ،پرندوں کو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضیلۃ العلم، ۱/۱۳۰-۱۳۱، ملخصاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۲۸۵۔