علمِ دین کے مالداری پر فضائل:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو علم ،مال اور بادشاہی میں (سے ایک کا) اختیار دیا گیا ،حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے علم کو اختیار فرمایا تو انہیں علم کے ساتھ مال اور بادشاہی بھی عطا کر دی گئی۔(1)
اس سے معلوم ہوا کہ دین کے علم کی برکت سے بندے کو دنیا میں عزت، دولت اور منصب مل جاتا ہے حتّٰی کہ بادشاہی اور حکومت تک مل جاتی ہے لہٰذا اس وجہ سے دین کا علم حاصل نہ کرنا اور اپنی اولاد کو دین کا علم نہ سکھانا کہ یہ علم سیکھ کرہم یا ہماری اولاد دنیا کی دولت اور دنیا کا چین و سکون حاصل نہیں کر سکیں گے، انتہائی محرومی کی بات ہے۔ علمِ دین کو دنیا کی دولت پر ترجیح دینے کی ترغیب کے لئے یہاں علمِ دین کے مالداری پر چند دینی اور دُنْیَوی فضائل ملاحظہ ہوں:
(1)…علم انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی میراث ہے اور مال بادشاہوں اور مالداروں کی میراث ہے۔
(2)…مالدار کا جب انتقال ہوتا ہے تو مال اس سے جدا ہو جاتا ہے جبکہ علم عالم کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہوتا ہے۔
(3)…مال مومن ،کافر، نیک، فاسق سب کو حاصل ہوتا ہے جبکہ نفع بخش علم صرف مومن کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
(4)…علم جمع کرنے اور اسے حاصل کرنے سے بندے کو عزت ، شرف اور تزکیۂ نفس کی دولت ملتی ہے جبکہ مال کی وجہ سے تزکیۂ نفس اور باطنی کمال حاصل نہیں ہوتا بلکہ مال جمع کرنے سے نفس لالچ، بخل اور حرص جیسی بری خصلتوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
(5)…علم عاجزی اور اِنکساری کی دعوت دیتا ہے جبکہ مال فخر و تکبر اور سر کشی کی دعوت دیتا ہے۔
(6)…علم کی محبت اور اس کی طلب ہر نیکی کی اصل ہے جبکہ مال کی محبت اور اس کی طلب ہر برائی کی جڑ ہے۔
(7)…مال کا جوہر بدن کے جوہر کی جنس سے ہے اور علم کا جوہر روح کے جوہر کی جنس سے تو علم اور مال میں ایسے فرق ہے جیسے روح اور جسم کے درمیان فرق ہے۔
(8)…عالم اپنے علم اور اپنے حال سے لوگوں کواللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے جبکہ مال جمع کرنے والا اپنی گفتگو اور اپنے حال سے لوگوں کو دنیا کی طرف بلاتا ہے۔
(9)… بادشاہ اور دیگر لوگ عالم کے حاجت مند ہوتے ہیں ۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاوّل فی فضل العلم والتعلیم والتعلّم۔۔۔ الخ، فضیلۃ العلم، ۱/۲۳۔