Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
344 - 695
فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ وَکُلًّا اٰتَیۡنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا ۫ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیۡرَ ؕ وَکُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرما دئیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے اور یہ ہمارے کام تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا اور داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو تابع بنادیا کہ وہ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے اور یہ (سب) ہم ہی کرنے والے تھے۔ 
{وَکُلًّا اٰتَیۡنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا:اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا۔} یہاں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدونوں پر کیا جانے والا انعام ذکر کیا گیاکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حکومت اور اِجتہاد و اَحکام کے طریقوں وغیرہ کا علم عطا کیا۔(1)
مُجتہد کو اجتہاد کرنے کا حق حاصل ہے:
	یہاں ایک مسئلہ ذہن نشین رکھیں کہ جن علمائِ کرام کو اجتہاد کرنے کی اہلیت حاصل ہو انہیں ان اُمور میں اجتہاد کرنے کا حق ہے جس میں وہ کتاب و سنت کا حکم نہ پائیں اور اگر ان سے اجتہاد میں خطا ہو جائے تو بھی ان پر کوئی مُواخذہ نہیں۔(2) جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور حدیث ِ پاک میں ہے ،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب حکم کرنے والا اجتہاد کے ساتھ حکم کرے اور اس حکم میں درست ہو تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا واقع ہو جائے تو ا س کے لئے ایک اجر ہے۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۲۸۴۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۲۸۴۔
3…بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، باب اجر الحاکم اذا اجتہد فاصاب او اخطأ، ۴/۵۲۱، الحدیث: ۷۳۵۲، مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب بیان اجر الحاکم اذا اجتہد۔۔۔ الخ، ص۹۴۴، الحدیث: ۱۵(۱۷۱۶)۔