اب اس آیت میں کافروں کے بارے میں مزید فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ آیاتِ الٰہیہ اور قرآن ،ہدایت و بیان ، دلائلِ قدرت اور ایمان سے اندھے بنے رہے اور ان میں سے کسی چیز کو وہ نہ دیکھ سکے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ عداوت رکھنے کے باعث حق بات سن نہ سکتے تھے۔(1)
اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا کافر یہ سمجھے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
{اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا:تو کیا کافر سمجھتے ہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں جیسے حضرت عیسیٰ، حضرت عزیر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے اور ان سے کچھ نفع پائیں گے؟ ان کایہ گمان فاسد ہے ،بلکہ وہ بندے انہیں اپنا دشمن سمجھتے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔(2)اور کافروں کا گمان فاسد ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اور ملائکہ، ایمان والوں کے مددگار ہوکر ان کی شفاعت کریں گے نہ کہ کافروں کی۔
قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا ﴿۱۰۳﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۲۲۶-۲۲۷۔
2…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۵/۳۰۳، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳/۲۲۷، ملتقطاً۔