Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
334 - 695
ترجمۂکنزالایمان: کہا تو کیا اللّٰہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے ۔ تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللّٰہ کے سوا پوجتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: ابراہیم نے جواب دیا : تو کیا تم اللّٰہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع دیتا ہے اور نہ نقصان پہنچاتا ہے۔ تم پر اور اللّٰہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان پر افسوس ہے ۔تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟
{قَالَ:فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جواب دیا : تو کیا تم اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جس کا حال یہ ہے کہ اگر تم اسے پوجو تو وہ تمہیں نفع نہیں دیتا اور اگر اسے پوجنا مَوقُوف کر دو تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاتا۔ تم پر اور اللّٰہ تعالیٰ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان پر افسوس ہے ،تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ اتنی سی بات بھی سمجھ سکو کہ یہ بت کسی طرح پوجنے کے قابل نہیں۔(1)
قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ فٰعِلِیۡنَ ﴿۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کرنا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بولے: ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔ 
{قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ:کہا: ان کو جلادو۔} جب حجت تمام ہو گئی اور وہ لوگ جواب سے عاجز آگئے تو کہنے لگے: اگر تم اپنے خداؤں کی کچھ مدد کرنا چاہ رہے ہو تو ان کا انتقام لے کر ان کی مدد کرو اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جلا دو کیونکہ یہ بڑی ہولناک سزا ہے۔ چنانچہ نمرود اور اس کی قوم حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جلا ڈالنے پر متفق ہو گئی اور انہوں نے آپ کو ایک مکان میں قید کر دیا اور کوثیٰ بستی میں ایک عمارت بنائی اور ایک مہینہ تک پوری کوشش کر کے ہرقسم کی لکڑیاں جمع کیں اور ایک عظیم آ گ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے جل جاتے تھے اور ایک منجنیق ( یعنی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۶-۶۷، ۳/۲۸۱۔