Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
335 - 695
پتھر پھینکنے والی مشین) کھڑی کی اور آپ کو باندھ کر اس میں رکھااور آگ میں پھینک دیا۔ اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبانِ مبارک پر تھا حَسْبِیَ اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْل، یعنی مجھے اللّٰہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ جبریل ِامین عَلَیْہِ السَّلَامنے آپ سے عرض کی: کیا کچھ کام ہے ؟ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’تم سے نہیں۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: تو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّسے سوال کیجئے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’ سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لئے کافی ہے۔(1)
	حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ سمجھا تھا کہ امتحان کے وقت دعا کرنی بھی مناسب نہیں کہ کہیں یہ بے صبری میں شمار نہ ہوجائے۔ یہ انہی کامرتبہ تھا، ہمیں بہرحال مصیبت و بلا کے وقت دعا کرنے کا حکم ہے۔ 
قُلْنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبْرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔
{قُلْنَا:ہم نے فرمایا۔} جب حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ چنانچہ آگ کی گرمی زائل ہو گئی اور روشنی باقی رہی اور اس نے ان رسیوں کے سوا اور کچھ نہ جلایا جن سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو باندھا گیا تھا۔(2)
	حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اگراللّٰہ تعالیٰ ’’سَلٰمًا‘‘نہ فرماتاتوآگ کی ٹھنڈک کی وجہ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  انتقال فرما جاتے۔(3)
وَاَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۷۲۱۔
2…جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۲۷۴۔
3…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳/۲۸۲۔