اس کے وزیروں تک پہنچی تو وہ کہنے لگے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دیں کہ یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی کا فعل ہے یا ان سے بتوں کے بارے میں ایسا کلام سنا گیا ہے ۔اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ گواہی قائم ہو جائے تو وہ آپ کے درپے ہوں ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلائے گئے اور ان لوگوں نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ آپ نے اس بات کا تو کچھ جواب نہ دیا اور مناظرانہ شان سے تعریض کے طور پر ایک عجیب و غریب حجت قائم کی اور فرمایا: ان کے اس بڑے نے اس غصے سے ایسا کیا ہوگا کہ اس کے ہوتے تم اس کے چھوٹوں کو پوجتے ہو ، اس کے کندھے پر کلہاڑا ہونے سے ایسا ہی قیاس کیا جا سکتا ہے، مجھ سے کیا پوچھتے ہو! تم ان سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے ہیں تو خود بتائیں کہ ان کے ساتھ یہ کس نے کیا ؟اس سے مقصود یہ تھا کہ قوم اس بات پرغور کرے کہ جو بول نہیں سکتا، جو کچھ کر نہیں سکتا وہ خدا نہیں ہو سکتا اور اس کی خدائی کا اعتقاد باطل ہے۔ چنانچہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ فرمایا تو وہ غور کرنے لگے اور سمجھ گئے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حق پر ہیں اور اپنے آپ سے کہنے لگے: بیشک تم خود ہی ظالم ہوجو ایسے مجبوروں اور بے اختیاروں کو پوجتے ہو ،جو اپنے کاندھے سے کلہاڑا نہ ہٹا سکے وہ اپنے پجاری کو مصیبت سے کیا بچا سکے اور اس کے کیا کام آ سکے گا ۔(مگر اتنا سوچ لینا ایمان کے لئے کافی نہیں جب تک اقرار و اعتراف بھی نہ ہو، اس لئے وہ مشرک ہی رہے۔)(1)
{ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمْ:پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کردئیے گئے ۔} یعنی کلمۂ حق کہنے کے بعد پھر ان کی بدبختی ان کے سروں پر سوار ہوئی اور وہ کفر کی طرف پلٹے اور باطل جھگڑا شروع کر دیا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہنے لگے :تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں ہیں تو ہم ان سے کیسے پوچھیں اور اے ابراہیم! تم ہمیں ان سے پوچھنے کا کیسے حکم دیتے ہو۔(2)
قَالَ اَفَتَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَنۡفَعُکُمْ شَیْـًٔا وَّلَا یَضُرُّکُمْ ﴿ؕ۶۶﴾ اُفٍّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن،الانبیاء،تحت الآیۃ: ۵۷-۶۴، ۳/۲۸۰-۲۸۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۷-۶۴، ص۷۱۹-۷۲۰، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۲۸۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۷۲۰، ملتقطاً۔