کہنے لگے: کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ بیشک وہ یقینا ظالم ہے۔ کچھ کہنے لگے: ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے ہوئے سنا ہے جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ کہنے لگے: تو اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دیں۔ انہوں نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ ابراہیم نے فرمایا: بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا تو ان سے پوچھ لواگر یہ بولتے ہوں۔ تو اپنے دلوں کی طرف پلٹے اور کہنے لگے: بیشک تم خود ہی ظالم ہو۔پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کردئیے گئے (اور کہنے لگے کہ) تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں ہیں۔
{وَتَاللہِ:اور مجھے اللّٰہ کی قسم ہے!} اس آیت اور اس کے بعد والی 7 آیات میں جو واقعہ بیان کیاگیا ہے ا س کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کاایک سالانہ میلہ لگتا تھا اور وہ اس دن جنگل میں جاتے اور وہاں شام تک لہو و لَعب میں مشغول رہتے تھے ، واپسی کے وقت بت خانے میں آتے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ،اس کے بعد اپنے مکانوں کو واپس جاتے تھے ۔ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کی ایک جماعت سے بتوں کے بارے میں مناظرہ کیا تو ان لوگوں نے کہا: کل ہماری عید ہے، آپ وہاں چلیں اور دیکھیں کہ ہمارے دین اور طریقے میں کیا بہار ہے اور کیسے لطف آتے ہیں ،چنانچہ جب وہ میلے کا دن آیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے میلے میں چلنے کو کہا گیا تو آپ عذر بیان کر کے رہ گئے اور میلے میں نہ گئے جبکہ وہ لوگ روانہ ہو گئے۔ جب ان کے باقی ماندہ اور کمزور لوگ جو آہستہ آہستہ جا رہے تھے گزرے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا۔ آپ کی اس بات کو بعض لوگوں نے سن لیا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت خانے کی طرف لوٹے توآپ نے ان سب بتوں کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، البتہ ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا کہ شاید وہ ا س کی طرف رجوع کریں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس بڑے بت سے پوچھیں کہ ان چھوٹے بتوں کا کیا حال ہے؟ یہ کیوں ٹوٹے ہیں اور کلہاڑا تیری گردن پر کیسے رکھا ہے؟ اور یوں اُن پر اِس بڑے بت کاعاجز ہونا ظاہر ہو اور انہیں ہوش آئے کہ ایسے عاجز خدا نہیں ہو سکتے ۔یا یہ معنی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دریافت کریں اور آپ کو حجت قائم کرنے کا موقع ملے ۔چنانچہ جب قوم کے لو گ شام کو واپس ہوئے اور بت خانے میں پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بت ٹوٹے پڑے ہیں تو کہنے لگے: کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ بیشک وہ یقیناظالم ہے۔ کچھ لوگ کہنے لگے: ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے ہوئے سنا ہے جس کو ابراہیم کہاجاتا ہے، ہمارا گمان یہ ہے کہ اسی نے ایسا کیا ہو گا۔ جب یہ خبر ظالم و جابر نمرود اور