Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
330 - 695
وَالسَّلَام اور ان کے ساتھی قلیل ہوتے اور دشمنانِ اسلام اکثریت میں ہوتے تھے لیکن وہ اکثریت جھوٹی تھی اور انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سچے تھے۔
قَالُوۡۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِیۡنَ ﴿۵۵﴾ قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیۡ فَطَرَہُنَّ ۫ۖ وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو ۔ کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا جس نے انہیں پیدا کیا اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیل رہے ہو؟ فرمایا: بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں۔
{قَالُوۡۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ:بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کوچونکہ اپنے طریقے کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور وہ اس کا انکار کرنا بہت بڑی بات جانتے تھے، اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا یونہی ہنسی مذاق کے طور پر فرما رہے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللّٰہ تعالیٰ کی رَبُوبِیَّت کا بیان کرکے ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طور پرکلام نہیں کررہے بلکہ حق کا اظہار فرما رہے ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا: تمہاری عبادت کے مستحق یہ بناوٹی مجسمے نہیں بلکہ تمہاری عبادت کا مستحق وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں کسی سابقہ مثال کے بغیرپیدا کیا، تو پھر تم ان چیزوں کی عبادت کیسے کرتے ہو جو مخلوقات میں داخل ہیں اور میں نے تم سے جو بات کہی کہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، میں اسے دلیل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں۔(1)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶، ص۷۱۹، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶، ۵/۴۹۲، ملتقطاً۔