باپ دادا کا برا طریقہ عمل کے قابل نہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا جو کام شریعت کے خلاف کرتے رہے ہوں ،اُن کاموں کو کرنا اور ان کے کرنے پر اپنے باپ دادا کے عمل کو دلیل بنانا کفار کاطریقہ ہے ،ہمارے معاشرے میں بہت سے مسلمان شادی بیاہ اور دیگر موقعوں پر شریعت کے خلاف رسم و رواج کی پیروی کرنے میں بھی ایسی ہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے بوڑھے برسوں سے اسی طرح کرتے آئے ہیں اور ہم بھی انہی کے طریقے پر چل رہے ہیں حالانکہ جو کام شریعت کے خلاف ہے اور اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں تو ا س کا برسوں سے ہوتا آنا اور آباؤ اَجداد کا اپنی جہالت کی وجہ سے اسے کرتے رہنا اسے شریعت کے مطابق نہیں کر سکتا۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور انہیں شریعت کے خلاف کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
قَالَ لَقَدْ کُنۡتُمْ اَنۡتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو۔
{قَالَ:فرمایا۔} قوم کا جواب سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایاکہ تم اورتمہارے باپ دادا جنہوں نے یہ باطل طریقہ ایجادکیاسب کھلی گمراہی میں ہو اور کسی عقل مند پر تمہارے اس طریقے کا گمراہی ہونا مخفی نہیں ہے۔(1)
دینی معاملے میں کسی کی رعایت نہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ دینی معاملے میں کسی کی رعایت نہیں بلکہ حق بات بہرحال بیان کرنی چاہیے ،ہاں کہاں کس حکمت ِ عملی کے مطابق بات کرنی چاہیے ، سختی سے یا نرمی سے تو یہ بات مبلغ کو معلوم ہونی چاہیے ۔
شریعت کے خلاف کام میں کثرت ِرائے معتبر نہیں:
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خلافِ شرع کام میں کثرتِ رائے کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ہمیشہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳/۵۲۳۔