Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
32 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے۔
{وَ عَرَضْنَا جَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ:اور ہم اس دن جہنم لائیں گے۔} یعنی جس دن ہم تمام مخلوق کو جمع کریں گے اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے تاکہ وہ اسے صاف دیکھیں اور اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑناسنیں۔(1)
	ایک اور مقام پر اللّٰہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ اَعْتَدْنَا لِمَنۡ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾ اِذَا رَاَتْہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ آگ انہیں دور کی جگہ سے دیکھے گی تو کافر اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑناسنیں گے۔ 
	اور حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے۔(3)
الَّذِیۡنَ کَانَتْ اَعْیُنُہُمْ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکْرِیۡ وَکَانُوۡا لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ سَمْعًا ﴿۱۰۱﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور حق بات سن نہ سکتے تھے ۔
{اَلَّذِیۡنَ:وہ لوگ جو۔}  اس سے پہلی آیت میں کفار کے بارے میں فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ان کے سامنے جہنم لائیں گے،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…ابو سعود، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳/۴۰۷۔
2…فرقان:۱۱،۱۲۔
3…مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب فی شدۃ حرّ نار جہنّم وبعد قعرہا وما تأخذ من المعذّبین، ص۱۵۲۳،  الحدیث: ۲۹(۲۸۴۲)۔